Share this link via
Personality Websites!
شریف) لگاتے، اس میں مدینے کی مِٹِّی شریف مِلاتے اور زَخْم پر لگا کر کہتے:
بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ اَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِاِذنِ رَبِّنَا
ترجمہ:اللہ پاک کے نام سے، ہمارے شہر کی مٹی، ہمارا لُعاب شریف اللہ پاک کی عطا سے ہمارے بیماروں کا شِفَا دے گا۔ ([1])
مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ کے فرمان کا خُلاصہ ہے: اَوَّلاً نبی اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مَرض کی جگہ پر انگلی رکھتے، پھر انگلی پر اپنا لُعَاب شریف لگاتے، پھر مٹی لگاتے اور اس کا لیپ مرض کی جگہ پر کرتے اور فرماتے جاتے: اللہ پاک کے حکم سے ہمارا لُعَاب اور مدینے کی مٹی شِفَا ہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مدینۂ پاک سے کیسی محبّت تھی، اِس مقدَّس شہر کی مَٹِّی سے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کیسا گہرا اور سنجیدہ لگاؤ رکھتے تھے۔
اِس حدیث شریف یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ مدینے کی مَٹِّی میں شِفَا ہے۔ اللہ پاک کے حبیب، طبیبوں کے طبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حدیثِ پاک میں فرمایا: غُبَارُ الْمَدِیْنَۃِ شِفَاءٌ مدینۂ پاک کا غُبَار باعِثِ شِفَا ہے۔([3]) *ایک حدیثِ پاک میں تو پیارے نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے قسم کے ساتھ فرمایا: وَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدرت میں میری جان ہے اِنَّ فِیْ غُبَارِھَا شِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ بے شک مدینۂ پاک کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami