Share this link via
Personality Websites!
حدیثِ پاک میں یہاں مرنے کی ترغیب دِلائی گئی، یہ ترغیب دُنیا کے کسی بھی اَور شہر کے بارے میں نہیں ہے۔([1])
نہ اور کوئی تمنّا نہ جُسْتَجُو ٹھہرے دل و نظر میں مدینے کی آرزو ٹھہرے
دُعا ہے ربّ سے مدینے کا ایک اک مَنْظَر بَہ وقتِ مَرگ بھی آنکھوں کے رُوبَرُو ٹھہرے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مدینۂ پاک سے کیسی محبّت تھی، ایک اور اندازِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سنیے! مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ طیبہ طاہِرہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم میں سے جب کبھی کوئی بیمار ہو جاتا، کسی کو پَھوڑا، پھنسی وغیرہ نکل آتی تو...!!
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی تَو عادَت مبارَک تھی، کچھ بھی ہوتا، مدد کے لیے بارگاہِ رسالت میں ہی حاضِر ہوا کرتے تھے۔ کہتے ہیں نا؛
کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں، کسی کو حالات کو کیوں بتائیں
تمہی سے مانگیں گے، تم ہی دو گے، تمہارے دَرْ سے ہی لَو لگی ہے
خیر! سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: کسی صحابی رَضِیَ اللہ عنہ کو کوئی تکلیف ہو جاتی تو بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوتے، اب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا انداز مبارَک کیا تھا؟ فرماتی ہیں: آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنی انگلی مبارَک پر تھوڑا سا لُعَابِ پاک (یعنی اپنا تُھوک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami