Share this link via
Personality Websites!
عمومًا ہمیں بھی محبّت ہوتی ہے، بہت سارے لوگ ہیں جو سَفَر سے اُکتا جاتے ہیں، جب کہیں دوسرے شہر گئے ہوں تو چند دِنوں بعد دِل اُچاٹ ہو جاتا ہے، واپس گھر آئیں تَو ہی سکون ملتا ہے مگر پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا مدینے شریف کے ساتھ محبّت کا الگ طرح کا ہی انداز تھا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینے کی ہواؤں کو محسوس فرماتے، انہیں اپنے جِسْمِ پاک کے ساتھ لپٹنے کی اجازت مرحمت فرماتے، مدینے شریف کے دَر و دِیوار کو دیکھ کر چہرۂ پاک پر خُوشی پھیل جایا کرتی تھی۔
مُوَطَّاْ اِمام مالِک حدیثِ پاک کی سب سے پہلی کتاب ہے، عظیم عاشِقِ رسول حضرت امام مالِک رحمۃُ اللہ علیہ نے اِس میں حدیثیں جمع کی ہیں۔ اِس مُبارَک کتاب میں ایک روایت ہے، ایک مرتبہ کسی کا اِنتقال ہوا، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، میّت کو قبرستان لے جایا گیا، ابھی قبر تیار ہو رہی تھی، چنانچہ رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہو گئے، قبر تیار ہونے کا اِنتظار فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے قبر کے اندر جھانک کر دیکھا اور کہا: بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ یعنی یہ مؤمن کا کتنا بُرا ٹھکانا ہے۔
محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بات سُنی تو فرمایا: تم نے بُری بات کہی ہے۔ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! میرا یہ مَقصد نہیں تھا۔ میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اِن کو شہادت کی موت نصیب ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: شَہادت کی تو مثال ہی نہیں ہے، البتہ!مَا عَلَى الْاَ رْضِ بُقْعَةٌ هِيَ اَحَبُّ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami