Share this link via
Personality Websites!
اپنے کندھوں سے چادر اُتار دیتے اور فرماتے: هٰذِهٖ اَرْوَاحٌ طَيِّبَةٌ یعنی یہ پاکیزہ ہوائیں ہیں۔ ([1])
یعنی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پسند فرماتے تھے کہ چادر اِن ہواؤں کو رَوک نہ لے، لہٰذا چادَر اُتار دیتے تاکہ مدینے کی ہوائیں جِسْمِ مُقَدَّس سے لپٹ جائیں۔
وہ جس کا شہر بھی ہے ایسا پیارا جہاں کی رات دن سے سِوا ہے
فضائے طیبہ پر قربان جاؤں نسیمِ خُلْد سی جس کی ہوا ہے([2])
حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینے کے دَر و دِیوار، گلیوں اور درختوں کو دیکھتے تو اپنی سُواری مبارَک مدینہ مُنَوّرَہ کی محبّت کے سبب تیز فرما دیتے ۔ ([3])
پِھر آپ یُوں دُعا فرماتے:
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا بِهَا قَرَارًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا
ترجمہ: اے اللہ پاک!ہمارے لیے مدینے میں اچھا ٹھکانا اور وسیع رِزْق مقرّر فرما دے۔([4])
تُو لِکھ دے الٰہی! مقدّر میں میرے مدینے میں مرنا مدینے میں جینا
نہیں روتے عُشاق دنیا کی خاطِر رُلاتی ہے اُن کو تو یادِ مدینہ([5])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! آپ یہاں سے اندازہ لگائیے! رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینۂ پاک سے کس قدر محبّت فرمایا کرتے تھے، اپنے شہر سے
[1]...سبل الہدی ، جماع ابواب بعض فضائل المدینۃ، الباب الرابع، جلد:3، صفحہ:297۔
[2]...سامانِ بخشش، صفحہ:201 و212 ملتقطاً۔
[3]... سبل الہدی ، جماع ابواب بعض فضائل المدینۃ، الباب الرابع، جلد:3، صفحہ:297۔
[4]...مکارم الاخلاق للخرائطی، باب ما یستحب للمسافر اذا نزل...الخ، جلد:4، صفحہ:140، حدیث:1001۔
[5]...وسائلِ بخشش، صفحہ:370و 371 ملتقطاً۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami