Share this link via
Personality Websites!
سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۲۶)
(پارہ:8،الاعراف :26)
تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا جو تمہاری شرم کی چیزیں چھپاتا ہے اور (ایک لباس وہ جو) زیب و زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔
اس آیت میں بیان کیاگیا:اللہ پاک نے 3 طرح کے لباس عطا فرمائے۔(1): ایسا لباس جس سے ستر ڈھانپا جاسکے (2):ایسا لباس جو زینت کے لیے پہناجائے۔مثلاً:صاف ستھرے اور باقار کپڑے پہننا (3):لباس ِتقوی یعنی ایمان واعمالِ صالِحہ کا لباس اور یہ لباس سب سے افضل ہے۔ ([1])
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
سفید لباس پہنو !کیونکہ یہ زیادہ صاف اورپاکیزہ ہے اور اپنے مردوں کو بھی اسی میں کفناؤ ۔([2])
(1): اتنا لباس پہننا کہ سَتر ( مرد کے لیے ناف سے گھٹنے تک )چھپ جائے اور سردی گرمی کی تکلیف سے بچا جاسکے فرض ہے۔([3]) لہٰذا ایسا نکر وغیرہ پہننا جس سے گھٹنے یا رانیں وغیرہ کھلی رہیں جیسے آج کل بعض لوگ پہنتے ہیں یہ حرام ہے۔ (2):اللہ پاک کی نعمت کے اظہار کے لیے عمدہ اور باوقار لباس پہننا مُسْتَحب ہے۔([4]) (3): تکبر کے طور پر جو لباس پہناجائے وہ ممنوع ہے۔([5]) (4): اِسبال (کپڑا لٹکانا ) مثلاً *قمیض کا دامَن یا اِزَار (مثلاً :تہبند، شلوار، پاجامے یا پینٹ وغیرہ) کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکانا *عمامے کا شملہ اِتنا لمبا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami