Share this link via
Personality Websites!
ثواب نصیب ہو جائے گا۔
ماں اور بیٹے کا پیار بھرا انداز
بڑے مشہور صحابئ رسول ہیں: حضرت ابُو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ۔آپ کا انداز بہت پیارا تھا۔ آپ جب سَفَر پر جانے لگتے تو اپنی والدہ کے گھر حاضِر ہوتے، دروازے پر رُک کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُیعنی امّی جان ! آپ پر اللہ پاک کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ جواب میں آپ کی والدہ کہتیں:وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا بُنَيَّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُاے بیٹے !تم پر بھی اللہ پاک کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔پھر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ کہتے: اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے کہ آپ نے بچپن میں میری پرورش فرمائی۔ آپ کی والدہ جواب میں کہتیں: اللہ پاک تم پر بھی رحم فرمائے کہ جس طرح تم بڑھاپے میں میرا خیال رکھ رہے ہو۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا ادا ہے...!! تَصَوُّر کیجئے! جب حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ یُوں پیار بھرے انداز میں اپنی اَمِّی جان کا شکریہ ادا کرتے ہوں گے تو آپ کی امّی جان کو کتنا سکون ملتا ہو گا...!! یقیناً ہمارے والدین کے ہم پر بہت احسان ہیں، اتنے احسان ہیں کہ ہم ان کا بدلہ چُکا ہی نہیں سکتے۔ ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے سُوال ہوا: ماں باپ کے کتنے حقُوق ہیں (یعنی پوچھنے والا یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ حقُوق کی گنتی بتا دی جائے تاکہ میں وہ گِن کر پُورے پُورے ادا کر لُوں)۔ سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اس کا جو جواب دِیا، کمال تھا، آپ نے ایک جملے میں بات ختم کی، فرمایا: ماں باپ کا حق اتنا ہے کہ اگر یہ وفات پا جائیں اور بیٹا انہیں دوبارہ زندہ کر سکتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami