Share this link via
Personality Websites!
کہ جو غریب ہیں، امیروں کو دیکھ کر ان کا دِل للچاتا تو ہے مگر اس بات پر للچاتا ہے کہ *مالداروں کے پاس اچھا بنگلہ ہے*مالداروں کے پاس بہترین گاڑیاں ہیں *مالداروں کا کھانا پینا بہت اعلیٰ ہے، افسوس! ہم ان باتوں پر للچاتے ہیں مگر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نیکیوں کی کثرت پر رشک کیا کرتے تھے۔ کاش! ہمیں بھی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم جیسی پیاری پیاری اعلیٰ سوچ نصیب ہو جائے۔
(2):ذِکْر کیجئے! حج کا ثواب کمائیے!
پیارے اسلامی بھائیو! دوسرا سبق جو اس حدیثِ پاک سے ہمیں سیکھنے کو مِلا، وہ یہ کہ جو بندہ ہر نماز کے بعد تسبیحِ فاطمہ پڑھے، یعنی 33 بار سُبْحٰنَ اللہ، 33 بار الحمد للہ! اور 34 بار اللہ اَکْبَر پڑھا کرے، وہ مالداروں کی مالی عبادات (مثلاً حج، زکوٰۃ وغیرہ) والا ثواب حاصِل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
سُبْحٰنَ اللہ!اس سے مَعْلُوم ہوا؛ اللہ پاک کا ذِکْر بہت ہی بلند رُتبہ عبادت ہے کہ اس کے ذریعے سے بڑی بڑی نیکیوں کے برابر ثواب مل جاتا ہے۔ کاش! ہمیں کثرت سے اللہ پاک کا ذِکْر کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
حضرت سَہل بن مُعَاذ رَضِیَ اللہ عنہ اپنے والد صاحب سے روایت کرتے ہیں: ایک مرتبہ محفلِ نُور سجی تھی، پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما تھے، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم بھی حاضِر تھے، ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور عرض کیا: یارسولَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami