Share this link via
Personality Websites!
نے ان صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سےفرمایا:کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو جو فضیلت اُن (حج اور دیگر مالی عبادات کرنے والوں) کو ملتی ہے، اس سے بھی زیادہ فضیلت تمہیں حاصِل ہو جائے۔ پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایسی فضیلت والی نیکی بتاتے ہوئے فرمایا: ہر نماز کے بعد 34 بار اللہ اَکْبَر، 33 بار سُبْحٰنَ اللہ اور 33 بار اَلْحَمْدُ للہ پڑھ لیا کرو...!! ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک میں ہمارے لئے سیکھنے کے 2 سبق ہیں:
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی نِرالی، نیکیوں بھری سوچ دیکھئے! *مالدار کھانا اچھا کھاتے ہیں، اس پر انہیں رشک نہیں ہے*مالدار لباس اچھا پہنتے ہیں، اس پر بھی رشک نہیں ہے، *مالداروں کے گھر بہترین ہیں، اس پر بھی رشک نہیں ہے۔ رشک ہے تو اس بات پر ہے کہ *وہ نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں*وہ تِلاوت کرتے ہیں، ہم بھی تِلاوت کرتے ہیں*وہ حدیثیں سنتے ہیں، ہم بھی سُنتے ہیں*وہ نوافِل پڑھتے ہیں، ہم بھی پڑھتے ہیں *وہ روزے رکھتے ہیں، ہم بھی رکھتے ہیں، یہاں تک تو مُعاملہ برابر ہے *مگر وہ چونکہ مالدار ہیں، لہٰذا وہ حج، زکوٰۃ، صدقہ و خیرات وغیرہ مالی عبادات بھی کر لیتے ہیں مگر ہم مالی عبادات نہیں کر پاتے، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اس جگہ آ کر مالدار صحابہ نیکیوں کے مُعاملے میں ہم سے آگے نکل رہے ہیں۔
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ ہے اَصْل مقامِ رشک...!! افسوس! ہمارے ہاں اب حالات ایسے ہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami