Share this link via
Personality Websites!
بھی ہیں، بلکتے بھی ہیں، روتے اور آنسوبھی بہاتے ہیں۔ کاش! ہم سب کو یہ شوق، یہ ذوق، سَفَرِ حج کی سچّی طلب نصیب ہو جائے۔
بہر حال! جن خوش نصیبوں کو اس سال سَفَرِ حج کی سَعَادت مِل رہی ہے، ان کا مقام، اُن کا رُتبہ، اُن کی خوش بختی جُدا ہے۔البتہ وہ لوگ جو شوقِ حج رکھتے ہیں مگر جانے کی طاقت نہیں رکھتے، الحمد للہ! ہمارے پیارے دِینِ اسلام نے اُنہیں بھی محروم نہیں چھوڑا ہے، ہمارے پیارے آقا و مولیٰ، ہم سے محبّت فرمانے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایسے بہت سارے اَعْمال ہمیں بتائے ہیں، جنہیں اپنا کر ہم حج کا ثواب حاصِل کر سکتے ہیں۔ آئیے! حج کا ثواب دِلانے والے چند نیک اَعْمال سُنتے ہیں:
حدیثِ پاک میں ہے، صحابئ رسول حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ذَہَبَ الْاَغْنِیَاء بِالْاَجْرِ یعنی اے اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اَہْلِ ثَرْوت (جنہیں مال و دولت کی کثرت عطا ہوئی ہے) وہ ثواب کمانے میں ہم سے آگے گزر گئے۔ (وہ کیسے؟ عرض کیا:)یَحُجُّوْنَ وَ لَا نَحُجُّ وہ حج کرتے ہیں، ہم حج نہیں کر پاتے، وہ فُلاں فُلاں مالی عِبَادات کرتے ہیں، ہم (چونکہ مال نہیں رکھتے، لہٰذا) ہم وہ والی مالِی عبادات نہیں کر پاتے۔
اب یہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کا خوبصُورت شوق دیکھئے! حاجی حج کیلئے جاتے ہیں، یہ مالی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جا پا رہے تو تڑپتے ہیں کہ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! وہ حج کے لئے چلے گئے، ہم رہ گئے...!! رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami