Share this link via
Personality Websites!
ہو تو کرے۔ ([1])
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح مُردَے کو زندہ کرنا عام آدمی کیلئے ناممکن ہے، یُونہی والدین کے حُقُوق پُورے کر لینا، ان کی کوئی گنتی رکھنا، یہ بھی ناممکن ہے۔ اب اگر ہم ان کے احسانات اور اتنے حقُوق کا خیال رکھتے ہوئے، انہیں پیار سے دیکھیں، ان سے پیار سے بات کریں تو ہمارا کیا جاتا ہے؟ بلکہ جانا کیا ہے، رَبِّ کریم اپنی رحمت سے مقبول حج کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ اس لئے عادَت بنائیے! زیادہ نہیں تو کم از کم دِن میں ایک مرتبہ حدیثِ پاک ذِہن میں رکھ کر اچھی نِیّت کے ساتھ والدَین کی پیار سے زیارت کرنے کی عادَت لازمی بنا لیجئے!
(3):والدین کی قبر پر حاضِری دینا
وہ اسلامی بھائی جن کے والِدَین اس دُنیا میں نہیں ہیں، وفات پا چکے ہیں، وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم حج کا ثواب کیسے کمائیں؟ ہم والدین کی زیارت کیسے کریں گے؟ ان کی خِدْمت میں عرض ہے کہ گھبرائیے نہیں، الحمد للہ! ہمارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن(یعنی تمام جہانوں کیلئے رحمت) ہیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کسی کو بھی مَحْرُوم نہیں چھوڑتے، وہ لوگ جن کے والدین دُنیا سے پردہ کر چکے ہیں، قبروں میں آرام فرما ہیں، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے انہیں بھی حج کا ثواب کمانے کا طریقہ بتایا ہے، جی ہاں! حدیثِ پاک سنیئے! پیارے نبی، رسولِ ہاشمی، مُحَمَّد ِعربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنْ زَارَ قَبْرَ اَبَوَیْہِ اَوْ اَحَدِ ہِمَا اِحْتِسَابًا کَانَ کَعَدْلِ حَجَّۃٍ مَبْرُوْرَۃٍ
ترجمہ: جو اپنے والدین، دونوں یا ایک (جو بھی وفات پا گئے ہوں،ان) کی قبر پر ثواب کی نیّت سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami