Share this link via
Personality Websites!
چہرے بھی تر و تازہ ہو جایا کریں گے، ان کے دِل اور دماغ بھی تر و تازہ ہو جایا کریں گے۔
صحابئ رسول حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی، جب سَفَر سے واپس مدینہ مُنَوّرَہ تشریف لاتے تَو اپنے کندھوں سے چادر اُتار دیتے اور فرماتے:
هٰذِهٖ اَرْوَاحٌ طَيِّبَةٌ
ترجمہ: یہ پاکیزہ ہوائیں ہیں۔ ([1])
یعنی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پسند فرماتے تھے کہ چادر اِن ہواؤں کو رَوک نہ لے، لہٰذا چادَر اُتار دیتے تاکہ مدینے کی ہوائیں جِسْمِ مُقَدَّس سے لپٹ جائیں۔
وہ جس کا شہر بھی ہے ایسا پیارا جہاں کی رات دن سے سِوا ہے
فضائے طیبہ پر قربان جاؤں نسیمِ خُلْد سی جس کی ہوا ہے([2])
حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینے کے دَر و دِیوار، گلیوں اور درختوں کو دیکھتے تو اپنی سُواری مبارَک مدینہ مُنَوّرَہ کی محبّت کے سبب تیز فرما دیتے ۔ ([3])
پِھر آپ یُوں دُعا فرماتے:
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا بِهَا قَرَارًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami