Share this link via
Personality Websites!
چند مثالیں عرض کروں: *حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس 4 دِرْہَم تھے، آپ نے ایک دِرْہم رات کو، ایک دِن میں، ایک چھپا کر، ایک اِعلانیہ طَور پر صدقہ کیا، اللہ پاک نے آیت اُتاری، فرمایا:([1])
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) (پارہ:3، سورۂ بقرہ:274)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لیے اُن کا اجر اُن کے ربّ کے پاس ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
*صحابۂ کرام علیہم الرّضوان مغرب کے بعد اَوَّابِین کے نوافِل پڑھا کرتے تھے، اللہ پاک نے فرمایا:([2])
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پارہ:21، سورۂ سجدہ:17)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تو کسی جان کو مَعْلُوم نہیں وہ آنکھوں کی ٹھنڈک جو ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں چُھپا رکھی ہے۔
یعنی اِن کے نوافِل کی قبولیت کی خبر بھی دے دی اور ساتھ ہی بتا دیا کہ ان کے لیے وہ جزا تیار کی گئی ہے کہ اس کی خبر اللہ پاک کو ہے، اور کسی کو نہیں ہے۔
*حضرت اَبُوطلحہ اَنْصاری رَضِیَ اللہ عنہ نے مہمان کی مہمان نوازی اس شان سے کی کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami