Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے ابتدا میں ایک آیتِ کریمہ سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا (پارہ:14، سورۂ نحل:41)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا۔
یعنی وہ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان جو مکّہ پاک میں رہے، ان کے کلمہ پڑھ لینے کے سبب، اِسْلام میں داخِل ہو کر غُلامئ مصطفےٰ قبول کر لینے کے سبب کفّارِ مکہ ان پر ظُلْم و سِتَم کے پہاڑ ڈھاتے تھے۔([1]) *کسی کو مارتے، پیٹتے، لہو لہان کر ڈالتے *کسی کو گرم ریت پر لٹا کر اُوپَر پتھر رکھ دیتے یہاں تک کہ جسم کی چربی پگھل کر بہنے لگتی *کسی پر کوڑے برساتے *کسی کا کھانا پینا بند کر دیتے، الغرض؛ سینکڑوں قسم کی مصیبتیں جنہوں نے برداشت کیں مگر اِن کے قدم نہ ڈگمگائے، یہ اِیْمان پر پہاڑ کی طرح ثابِت قدم رہے، حتی کہ نَوبَت یہاں تک پہنچی، انہیں اپنے گھر بار چھوڑ کر، اپنی زمینیں، اپنا وَطَن چھوڑ کر مکہ سے ہجرت کرنا ہوئی۔ اب چونکہ یہ اپنا دِین بچانے کی خاطِر، صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رِضا کی خاطِر اپنے گھر بار، ساز و سامان، زمین اور وَطَن چھوڑ رہے تھے، چنانچہ اللہ پاک نے ان کے لیے 2اِنْعامات کا اِعْلان کیا، فرمایا:
لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ- (پارہ:14، سورۂ نحل:41)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تو ہم ضرور انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami