Share this link via
Personality Websites!
سکتے، پِھر یہ ترغیب کیوں دِلائی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ مدینے میں مَرو...! اس کا مطلب کیا ہے؟ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا مطلب یہ ہے کہ اپنی پُوری کوشش کرو...!! ساری تَوانَائی اس پر خرچ کر دو کہ مجھے موت مدینے میں آئے۔([1])
یعنی ہم نے مَرنا کہاں ہے، یہ تو اللہ پاک کی مرضِی پر ہے، ہمارے ذِمّے یہ ہے کہ ہم مدینے میں مرنے کی جتنی کوشش کر سکتے ہیں، اتنی ہم کوشش کر گُزریں۔ مثلاً؛ ہم مدینے میں مَرنے کی دُعائیں کر سکتے ہیں؟ ہماری طاقت میں ہے نا...؟ لہٰذا مدینے میں مَرنے کی دُعائیں کریں، خُوب رَو رَو کر کریں، گِڑ گِڑا کر کریں، سجدہ میں گِر کر کریں، تہجد میں اُٹھ کر کریں: یا اللہ پاک! مدینے میں موت نصیب فرما۔
نہ اور کوئی تمنّا نہ جُسْتَجُو ٹھہرے دل و نظر میں مدینے کی آرزو ٹھہرے
دُعا ہے ربّ سے مدینے کا ایک اک مَنْظَر بَہ وقتِ مَرگ بھی آنکھوں کے رُوبَرُو ٹھہرے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے، مدینے کے لیے تڑپنا، مدینے میں جانا، پِھر آنا، پِھر جانا، بالآخر سبز سبز گنبد کے سائے میں، سنہری جالیوں کے سامنے، اِیْمان و عافیت کے ساتھ شہادت کی موت پانا اور بقیعِ پاک میں دفن ہونا نصیب ہو جائے۔
نبی کا آستاں ہو اور مرا سَر ہو تَو کیا کہنا...!!
دَمِ آخِر اگر ایسا مقدَّر ہو تو کیا کہنا...!!
کسی پتھر کے نیچے میری تربت ہو مدینے میں
وہ پتھر بھی اُنہی کے دَرْ کا پتھر ہو تو کیا کہنا...!!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami