Share this link via
Personality Websites!
رہا ہوں ، یا کعبے کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں بلکہ میرا ایک ہی جواب تھا، یہ کہ میں سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پاکیزہ دیار طیبہ شریف جا رہا ہوں۔
محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنِِ اسْتَطَاعَ اَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ، فَاِنِّي اَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا
ترجمہ: یعنی جس سے بن پڑے، وہ مدینے میں مَرے، پس جو مدینے میں مَرے گا، میں اُس کی شَفاعت فرماؤں گا ۔ ([1])
طیبہ میں مَرکے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند سیدھی سڑک یہ شَہرِ شَفاعَت نگر کی ہے([2])
وضاحت:زہے نصیب! مدینے میں موت پاؤ اور آنکھیں بند کیے آرام و سکون کے ساتھ چلے جاؤ..!کہ یہ راہ سیدھی شَفاعتِ مصطفےٰ تک پہنچاتی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! آپ کے ذِہن میں بھی ہو سکتا ہے کہ سُوال اُٹھ رہا ہو؛ موت تو ہمارے اِخْتیار میں ہی نہیں ہے۔ ہم نہ پیدا اَپنی مرضی سے ہوئے ہیں، نہ مَرنا اپنی مرضی سے ہے۔
لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے
جب مُعَاملہ ایسا ہے، اپنی مَرضِی سے، اپنے مَرنے کے مقام کا اِنْتخاب کر ہی نہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami