Share this link via
Personality Websites!
لَا تُعْمِلُهٗ حَاجَةٌ اِلَّا زِيَارَتِي
ترجمہ: یعنی اس کے علاوہ اسے کوئی حاجت نہ ہو( یعنی نہ تجارت کے لیے آیا،نہ کسی اور مقصد کے لیے آیا)صرف اور صرف میری زیارت کے لیے مدینۂ مُنَوَّرَہ پہنچا۔
كَانَ حَقّاً عَلَيَّ اَنْ اَكُوْنَ لَهٗ شَفِيْعاً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: مجھ پر حق ہے کہ میں روزِ قیامت اس کی شفاعت کروں۔ ([1])
ایک روایت میں فرمایا جو خاص میری زیارت کے لیے مدینۂ مُنَوَّرَہ پہنچا وہ روزِ قیامت میری جوارِ رحمت میں ہوگا۔([2])
اس حدیثِ پاک کے تحت عُلما فرماتے ہیں: اس حدیث پر پورا پورا عمل تب ہو گا کہ بندہ مسجد نبوی کی بھی نیت نہ کرے بلکہ بندے کو چاہیے کہ جب مدینۂ مُنَوّرَہ کی طرف سفر شروع کرے تو صرف و صرف روضۂ پُرنور کی زیارت کی نیت کرے۔([3]) *مسجد نبوی شریف میں نمازیں پڑھنے کی سَعادت ضمناً مل جائے گی *مَسْجِدِ قُبا میں نماز پڑھ کر عمرے کا ثواب لینے کی سَعادت بھی ضمناً مل ہی جائے گی لیکن اس کی نیت صرف ایک ہی ہو کہ میں روضۂ پُرنور کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔
کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نَھْضَت کدھر کی ہے([4])
وضاحت: یعنی جب مجھ سے پوچھا گیا کہ کہاں کا ارادہ ہے تو میں نے یہ نہ کہا کہ میں حج کرنے جا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami