Share this link via
Personality Websites!
مطلب یہ کہ جو ماں کی خِدْمت کرے گا، وہ جنّت کا حقدار ہو گا۔ یُونہی جو مدینہ شریف میں رَوْضَۃُ الجنّہ میں نفل پڑھ لے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جنّت کا حقدار ٹھہرے گا۔
دوسرا مطلب عُلَمائے کرام نے یہ بتایا کہ یہ جن جگہوں کو محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جنّتی قرار دیا ہے، جب قیامت قائِم ہو گی تَو اِن مقامات کو جُوْں کا تُوں اُٹھا کر جنّت میں رکھ دیا جائے گا۔([1])
بہر حال! جَو بھی مطلب ہو...!! مدینہ جنّت نُما شہر ہے۔ مالِکِ جنّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا شہر ہے، جِن کے نُور سے جنّت بنی، جنّت جن پر دُرود بھیجتی ہے، جنّت کے پتّے پتّے پر جن کا نام مبارَک تحریر ہے، مدینہ اُن مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا مبارَک و مقدَّس شہر ہے۔
سارے نبیوں کا سرور مدینے میں ہے سب رسولوں کا افسر مدینے میں
لطف جنت سے بڑھ کر مدینے میں ہے میٹھے مَحْبوب کا گھر مدینے میں ہے
کیا ہوا بھی مُعَطَّر مدینے میں ہے سب فضا بھی مُنَوّر مدینے میں ہے
جانتے ہو مدینہ ہے کیوں دل پسند دونوں عالَم کا سرور مدینے میں ہے
سبز گنبد کا عطاؔر منظر تو دیکھ کس قدر کیف آور مدینے میں ہے([2])
ہمیں اپنے دِل میں مدینے حاضِری کا شوق بڑھانا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، رسولِ رحمت،شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا
ترجمہ: جو میری بارگاہ میں زیارت کے لیے حاضر ہوا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami