Share this link via
Personality Websites!
بتائیے! جنّت کی پُوری کی پُوری کِیَاری...!! اور ایک قول کے مطابق مدینہ پاک کا 4.5 کلومیٹر کا رقبہ جنّت کی کِیاری ہو، جس کا شُمالی کِنَارہ جنّتی، جنوبی کِنَارہ جنّتی، جہاں کے کنویں جنّتی ہے، جس زمین میں اُگنے والی کھجوریں جنّتی...!! بتائیے! پِھر ایسا بےمثال و باکمال شہر اس دُنیا اور اس جیسی کئی دُنیاؤں سے کیوں افضل نہیں ہو گا...؟
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ
مَلائک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنی شب و روز خاکِ مزارِ مدینہ
رہیں اُن کے جلوے بسیں اُن کے جلوے مِرا دل بنے یادگارِ مدینہ
مِری خاک یاربّ نہ برباد جائے پسِ مَرگ کردے غبارِ مدینہ
شرف جن سے حاصل ہوا انبیا کو وہی ہیں حسن اِفتخارِ مدینہ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! بہر حال! یہ مدینے کا حُسْن ہے کہ یہ شہر جنّت نُما شہر ہے۔ یہ اتنی ساری اَحادِیث جو میں نے عرض کی ہیں، ان میں مدینے کو جنّت فرمایا گیا ہے۔ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: اس کا ایک مطلب تَو یہ ہے کہ یہاں جانا، یہاں عِبَادت کرنا جنّت میں لے جانے والا عمل ہے۔([2]) جیسے اِرْشاد ہوا:
اَلْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّهَاتِ
ترجمہ: جنّت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami