Share this link via
Personality Websites!
کرنے کی کوئی بات نہیں ہے، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ یہ کس اُونچے گھر یعنی مالِکِ جنّت، صاحِبِ کوثَر صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عطا کردہ بھیک ہے۔
اس سے آگے اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بہت کمال کی بات کہی، جنّت جو ہے، یہ ساتوں آسمانوں سے اُوپَر ہے اور جنّت کی چھت عرشِ اَعْظم ہے، اب اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا خیالِ بےمثال دیکھیے! لکھتے ہیں:
عرشِ بَرِیْں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اُتری ہوئی شبیہ ترے بام و دَر کی ہے([1])
وضاحت: یعنی جنّت کی چھت جو عرشِ اعظم ہے، اس کو اس پہلو سے دیکھیے کہ گویا ناز اور فخر میں جنّت کا دِماغ عرشِ اعظم تک جا پہنچا ہے، یہ ناز، یہ فخر کیوں ہے؟ اس لیے کہ جنّت آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دَر و دِیْوار کی شبیہ یعنی تَصْوِیر ہے۔
یہاں ایک اور اِیْمان افروز بات عرض کروں۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
قِيدُ سَوْطِ اَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا
ترجمہ: جنّت میں تمہارا کَوڑا(یعنی چابک) رکھنے کی جگہ اِس دُنیا اور اس جیسی ایک اور دُنیا سے افضل ہے۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ! جب جنّت کی ایک کَوڑا رکھنے کی جگہ اس پُوری دُنیا سے افضل ہے تو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami