Share this link via
Personality Websites!
آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
ہٰذَا جَبَلٌ یُّحِبُّنَا وَنُحِبُّہٗ
ترجمہ: یہ پہاڑ ہم سے محبّت کرتا ہے، ہم اس سے محبّت کرتے ہیں۔([1])
جس کے جلوے سے اُحد ہے تاباں معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اُس چاند پہ ہو کر قرباں، دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں([2])
وضاحت: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ کے جلووں سے نہ صرف اُحد پہاڑ مُنَوّرْ ہو گیا بلکہ اس کا دامن نُور کی کان بن گیا، ہم بھی اس چاند (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم )پر فِدا ہو کر اپنے پتھر دِل کو گناہوں کی گندگی سے صاف شفاف کر نا چاہتے ہیں۔
رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
أُحُدٌ عَلَى تُرْعَةٍ مِّنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ
اُحُد جنّت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر واقع ہے۔([3])
وادِئ بُطْحان بھی جنّت کے دروازے پر ہے
مدینہ شریف کے جُنُوب میں ایک وادِی ہے، وادِئ بُطْحَان، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
بُطْحَانُ عَلٰى تُرْعَةٍ مِّنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ
ترجمہ: بُطْحَان جنّت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر واقع ہے۔([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami