Share this link via
Personality Websites!
ہیں، وہی حصّہ رَوْضَۃُ الجنَّہ کہلائے گا۔
عُلَمائے کرام کی ایک جماعت نے اس کا یہ معنیٰ بھی بیان فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسجدِ نبوی شریف میں موجود مُصَلیٰ نہیں ہے، بلکہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جس مقام پر عید کی نماز ادا فرماتے تھے وہ عید گاہ والا مُصَلیٰ مراد ہے۔ اب مطلب یہ بنے گا کہ رَوْضَہ پاک سے لے کر عید گاہ والے مُصَلیٰ تَک کا حِصَّہ جنّت کی کیاریوں میں سے ایک کِیاری ہے۔([1])
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عید گاہ کا مقام
مدینہ شریف میںمسجدنبوی شریف سے تقریباً 6سو میٹر دُور مسجِدِ عَلِی بن ابی طالِب ہے۔ اس جگہ ایک میدان تھا، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم یہاں عِید کی نماز ادا فرماتے تھے۔ اب حدیثِ پاک کا مطلب یہ بنے گا کہ رَوْضۂ پُرنُور سے لے کر مسجدِ عَلِی تَک کا جو حِصَّہ ہے، یہ سارے کا سارا جنّت کی کیاریوں میں سے ایک کِیَاری ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ مدینہ شریف کا اِتنا بڑا حِصَّہ جو تقریباً ساڑھے 4کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، یہ پُورا ہی جنّت ہے۔
اُحُد شریف جنّت کی چوکھٹ پر ہے
مدینہ پاک میں شُمال کی جانِب سے داخِل ہوں تو اِبتدا ہی میں جَبَلِ اُحُد آتا ہے، جو مسجدِ نبوی شریف سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami