Share this link via
Personality Websites!
یہ پیارے آقا، مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نسبت سے مدینے کو جنّت بولتے اور مدینے کے طلبگار بھی رہتے ہیں۔
مولانا حَسَن رضا خان صاحب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں:
سَیْرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر سُوئے جنّت کون جائے، دَر تمہارا چھوڑ کر
ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حُورَوْں کو نثار کیا غرض کیوں جاؤں جنّت کو مدینہ چھوڑ کر([1])
مدینہ پر جنّت کا اِطْلاق احادِیث کی روشنی میں
پیارے اسلامی بھائیو! عُلَمائے کرام، اَوْلیائے کرام جو مدینہ شریف کو جنّت کہتے ہیں، یہ اپنی طرف سے نہیں کہتے، بہت ساری اَحادِیث میں بھی مدینہ پاک کو جنّت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چند احادِیث عرض کرتا ہوں:
گھر اور مُصَلیٰ کے درمیان جنّت کی کیاری ہے
حدیثِ پاک ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمُصَلايَ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ
ترجمہ: میرے گھر سے لے کر میرے مُصَلیٰ تک کی جگہ جنّت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں مُصَلیٰ سے کیا مُراد ہے؟ یہ بہت پتے کی بات ہے، مُصَلیٰ سے ایک تَو یہی والا مُصَلیٰ مراد ہو سکتا ہے جو مسجدِ نبوی شریف میں موجُود ہے، اس لحاظ سے وہ جو مدینۂ پاک میں مشہور رَوْضَۃُ الجَنَّہ ہے، جہاں لوگ جاتے بھی ہیں، نفل پڑھتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami