Share this link via
Personality Websites!
رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ مدینۂ مُنَوّرَہ حاضِر تھے، آپ نے سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی رہائش گاہ پر محفلِ پاک میں بیان فرمایا، اس بیان میں آپ نے خُود اپنا ایک واقعہ سُنایا، بڑا اِیمان اَفروز واقعہ ہے، فرمانے لگے: مدینۂ پاک میں جہاں میری رہائش ہے، وہاں سے مسجدِ نبوی شریف آتے ہوئے، راستے میں ایک مَجْذُوب صاحِب دِکھائی دیتے تھے (مَجْذُوب بھی اللہ پاک کے وَلِی اور شریعت کے پابند ہوتے ہیں، ان پر اللہ پاک کی محبّت اتنی غالِب آجاتی ہے کہ انہیں دُنیا کا ہَوْش نہیں رہتا، اس لیے بظاہِر دِکھنے میں دِیوانے لگتے ہیں)۔
خیر! علّامہ منظُور احمد شاہ صاحب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: وہ مَجْذُوب صاحِب راستے میں دِکھائی دیتے مگر کبھی اس طرف کوئی خاص تَوَجُّہ نہ گئی، میں انہیں کوئی عام دِیوانہ سمجھ کر گزر جایا کرتا تھا، ایک دِن رَوْضَۃُ الْجَنَّہ (جنّتی کیاری یعنی پیارے آقا، مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے روضہ مبارک اور منبرِ اَقْدس کے درمیان والی جگہ) حاضِری کی سَعَادت ملی، یہاں سَعَادتیں لُوٹنے کے بعد میں جنّتُ الْبَقِیْع چلا گیا، اس دوران یونہی میرے دِل میں خیال آیا کہ سُبْحٰنَ اللہ! مدینۂ پاک وہ مبارک شہر (Blissful City) ہے، جہاں 2 جنّتیں ہیں: (1):رَوْضَۃُ الْجَنّۃ (2):اور دوسری جنّتُ الْبَقِیْع ۔
اسی طرح کی باتیں سوچتا ہوا میں اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہا تھا، راستے میں انہی مَجْذُوب صاحِب کے قریب سے گزر ہوا، انہوں نے مجھے پُکارا: اَخِی! تَعَال بھائی! اِدھر آؤ...!! اِسْمَعْ کَلَامِی میری بات سُنو! میں قریب گیا، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا: وَ اللہ الْعَظِیْم اللہ حَیٌّ وَرَسُوْلُہٗ حَیٌّ یعنی اللہ پاک کی قسم! اللہ پاک بھی زِندہ ہے اور اس کی عطا سے اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم بھی زِندہ ہیں وَاللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami