Share this link via
Personality Websites!
*مِنیٰ پہنچے، جمرات (یعنی پتھر کے جو مینار سے ) کھڑے ہیں، انہیں کنکر مار دئیے! *روز شیمپو (Shampoo)لگا لگا کر بال بڑھائے تھے، نرم و ملائم کئے تھے، یہاں آ کر حلق کروا دیا*کعبہ شریف جس کے مُتَعَلِّق ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ یہاں اللہ پاک رہتا نہیں ہے، وہ تَو جِسْم سے پاک ہے، مکان سے پاک ہے، اس کے باوُجُود اس پتھر کے گھر کے گِرْد گھومتے چلے جا رہے ہیں؟ ارے بھائی! یہ کیا کر رہے ہو؟ کیوں کر رہے ہو؟ اللہ پاک تَو ہر جگہ سُنتا ہے، پھر دُعائیں مانگنے کے لیے عرفات ہی کیوں پہنچے؟ کیوں یہ دِیوانوں والا حلیہ بنا لیا...؟ اِن کاموں کے لیے لاکھوں لاکھ روپیہ کیوں خرچ کر دیا؟ جواب ایک ہی ملتا ہے:
لِلّٰہِ، میں بندہ ہوں، وہ میرا اللہ پاک ہے، بَس اس نے فرمایا اور میں شروع ہو گیا۔
میں ہوں بندہ، وہ مولیٰ کون ہے اپنا اُس کے سِوا
میں ہُوں اس کا وہ ہے مِرا جس نے بنایا اور پالا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ آمَنَّا بِرَسُولِ اللَّهِ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت عبد اللہ بن مسروق رحمۃُ اللہ علیہ خلیفہ ہارُون الرَّشِید کے وزیر (Minister) تھے۔ ایک عرصہ دُنیا داری میں گزرا، پِھر اللہ پاک نے آپ کو توبہ کی توفیق عطا فرمائی تو دُنیا داری سے کِنَارہ کیا، پچھلے سب گُنَاہوں سے توبہ کی اور پیدل ہی حج کے لیے روانہ ہو گئے۔ پُرانا دَور تھا، گاڑیاں اور ہوائی جہاز تَو تھے نہیں، چنانچہ پیدل ہی اتنا لمبا سَفَر کیا، جنگلوں سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami