Share this link via
Personality Websites!
گزرے، میدانوں سے گزرے، بال گرد سے اَٹ گئے، ظاہِری حلیہ تبدیل ہو گیا۔
اِدھر مکہ والوں کو جب خبر ملی کہ وَزِیر صاحب (Minister Sahib) حج کے لیے آرہے ہیں، ظاہِر ہے وزارت کا عہدہ (Ministry post)کوئی چھوٹا عہدہ تو نہیں ہوتا، لہٰذا مکہ کے بڑے بڑے عہدیداران استقبال کے لیے نکلے، جب وزیر صاحب پر نظر پڑی تو دیکھا کہ اُن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، چہرہ گرد آلود ہے، سارا حلیہ ہی تبدیل ہے۔ بڑے بڑے عہدیداروں نے تعجب سے پوچھا: آپ نے مسکینوں جیسی شکل بنا کر بغىر جُوتے کے جنگلوں اورمىدانوں مىں پىدل سفر کىوں فرماىا؟اب تَوْبَہ کر کے آنے والے سابقہ وزیر صاحب کا عشق بھرا جواب سنیے! فرمایا: آپ بتائىں اىک بندہ جب اپنے مَولا کے دروازے پر حاضرى دے، اس کى کىا کىفىَّت ہونى چاہىے؟ مىں پیدل چل کر حاضر ہوا ہوں،حق تو ىہ تھا کہ سَر کے بَل چل کرآتا۔([1])
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا اَرے سَر کا مَوقع ہے او جانے والے([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! کاش! ہمیں بھی ایسے عشق و مستی سے بھرپُور، اِیْمان افروز حج کرنے کی سعادت مل جائے۔
حج کیا، گُنَاہ کیوں نہ چھوڑے...؟
ایک مرتبہ ایک شخص عظیم وَلِیُّ اللہ حضرت جنید بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا۔ آپ نے (سلام دُعا کے بعد) پُوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ عرض کیا: حج کرنے گیا تھا، وہیں سے آیا ہوں۔ فرمایا: حج کر لیا؟ کہا: جی ہاں! کر لیا ۔ اب آپ نے اسے حج کے باطنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami