Share this link via
Personality Websites!
یعنی چُونکہ وہ اللہ ہے، تُم بندے ہو، حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے، اللہ پاک نے فرما دیا ہے، بَس دِیْوانہ وار اُٹھو اور حج کے لیے نکل پڑو...!! ([1])
حاجیوں کا اِظْہارِ عشق کا انداز
سُبْحٰنَ اللہ!کیا شان ہے...!! آپ دیکھیے نا؛ *وہی بندہ جو کپڑے سِلائی کروانے پر ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے، ذرا لباس میں بَل آجائے تو اس کی طبیعت بےمزہ ہو جاتی ہے، وہی بندہ سِلا ہوا لِبَاس اُتار کر دو کفن نُما چادریں پہن رہا ہے۔ اے بھائی...!! ایسا کیوں کرتے ہو؟ سِلا ہوا لِبَاس کیوں اُتار دیا؟ جواب ملتا ہے:
لِلّٰہِ، اللہ پاک کے لیے ایسا کر رہا ہوں۔
*جو صبح و شام خُوشبُو لگاتا تھا، ہزاروں روپے کے ماہانہ پرفیوم (Perfumes)خریدتا تھا، بار بار صابُن (Soap)سے ہاتھ دھوتا رہتا تھا، اب خُوشبودارچیز کو ہاتھ تک نہیں لگا رہا۔ ارے بھائی! کیوں؟ خوشبو لگانے سے کیا ہو جائے گا؟ کیوں ایسا کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے:
لِلّٰہِ، یعنی میں کچھ نہیں جانتا، بس جو کر رہا ہوں، اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔
*جس کا ہئیر سٹائِل (Hairstyle)ہی ہزاروں کا تھا، بال کٹوانے پر جو گھنٹوں لگا دیتا تھا، اب کنگھی نہیں کر رہا کہ کہیں بال نہ ٹوٹ جائیں۔ کیوں؟
لِلّٰہِ، اللہ پاک کا حکم ہے
*میدانِ عرفات میں پہنچ گئے، وہاں کیا کِیا؟ دُعائیں مانگیں*مُزْدَلِفہ پہنچ گئے، وہاں کیا کِیَا؟ کھلے میدان میں رات گزاری، فجر کی نماز پڑھی، دُعائیں مانگیں اور چل دئیے!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami