Share this link via
Personality Websites!
یہ بات یاد رکھیے! حج معمولی عِبَادت نہیں بلکہ یہ سَفَرِ عشق ہے، اس میں اَوَّل سے آخر تک عشق ہی عشق کا اِظْہار ہے۔ آپ غور فرمائیے! اللہ پاک نے اور بھی بہت ساری عِبَادات کا حکم دیا ہے مگر جب حج کا حکم دیا تو اس کا انداز ہی نِرالا رکھا *نماز کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ (پارہ:1، سورۂ بقرہ:43)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:نماز قائم رکھو۔
*زکوٰۃ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ (پارہ:1، سورۂ بقرہ:43)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:زکوٰۃ ادا کرو۔
*روزے کا حکم دیا تو فرمایا:
كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ (پارہ:2، سورۂ بقرہ:183)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم پر روزے فرض کیے گئے۔
مگر قربان جائیے! حج کا حکم دیا تو یہ نہیں فرمایا کہ حج کرو! بلکہ فرمایا:
وَ لِلّٰهِ (پارہ:4، سورۂ آلِ عمران:97)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اللہ کے لیے۔
اللہ پاک کے لیے کیا ہے؟
عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ (پارہ:4، سورۂ آلِ عمران:97)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ!اِس حکم کی اِبْتدا کس لفظ سے ہوئی: لِلّٰہِ،اللہ کے لیے ہے *نماز بھی اللہ پاک ہی کے لیے پڑھی جاتی ہے *روزہ بھی اللہ پاک ہی کے لیے رکھا جاتا ہے *زکوٰۃ بھی اللہ پاک ہی کےلیے ادا کی جاتی ہے مگر حج میں چُونکہ عشق کا غلبہ ہے، یہاں بندگی کا غلبہ ہے، اس لیے فرمایا:
وَ لِلّٰهِ (پارہ:4، سورۂ آلِ عمران:97)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اللہ کے لیے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami