Share this link via
Personality Websites!
رسول کی شمع یوں جلے کہ ہم سب کچھ چھوڑیں اور اللہ و رسول کے حکم پر عمل کرتے ہوئے حج فرض ہو تو حج کے لیے جائیں، اگر فرض نہ ہو اور اللہ پاک نے نفل حج کی استطاعت بخشی ہو تو کاش !بار بار جائیں۔
شَرَف دے حج کا مجھے میرے کبریا یَارَبّ! روانہ سُوئے مدینہ ہو قافِلہ یَارَبّ!
دکھا دے ایک جھلک سبز سبز گنبد کی بس اُن کے جلوؤں میں آجائے پھر قضا یَارَبّ!
بَوقتِ نَزع سلامت رہے مِرا ایماں مجھے نصیب ہو توبہ ہے اِلتجا یَارَبّ!([1])
اللہ پاک اس اَپاہج حاجی کے صدقے ہمیں بھی شوقِ حج نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
حج کرنے کے فضائل پر احادیثِ مبارکہ
(1): بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:اَلْعُمْرَةُ اِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِّمَا بَيْنَهُمَا ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةُ اور مقبول حج کی جزا صرف و صرف جنّت ہے۔([2])(2):مسلم شریف کی حدیث پاک ہے، نبی رحمت،شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:اِنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ بے شک حج پہلے کے گناہوں کو معاف کروا دیتا ہے۔([3])
بڑا حجّ پہ آنے کو جی چاہتا ہے بُلاوا اب آئے گا کب یاالٰہی!
مَیں مکّے میں آؤں مدینے میں آؤں بنا کوئی ایسا سَبب یاالٰہی!([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami