Share this link via
Personality Websites!
حیرت ہوئی اور میں نے اُس سے پوچھا : کتنا عرصہ ہوا سمرقند سے چلے ہوئے ؟کہنے لگا: 10 سال ہو چکے ہیں۔ اب تو تعجب اور حیرانی کی انتہا نہ رہی، حضرت شفیق بلخی رحمۃُ اللہ علیہ حیرت میں ڈوب کر ٹِکْٹِکی باندھ کر اُس خوش نصیب عاشقِ رسول کی طرف دیکھنے لگے۔اُس نے پوچھا :اے شفیق! کیا دیکھتے ہو؟ فرمایا: میں تمہاری کمزوری اورسفر کی درازی سے بہت حیران ہوں،اُس خوش نصیب عاشقِ رسول نے بڑا پیارا جواب دیا، کہنے لگا: اے شفیق بلخی! سفر کی دُوری کو میرا شوق قریب کردے گا اور جہاں تک بات ہے میری کمزوری کی تو میری کمزوری کا سہارا میرا مالک و مولا ہے۔([1])
فاصلوں کو تکلُف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود اُنہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
سُبْحٰنَ اللہ! اے عاشقانِ رسول! دیکھا آپ نے اپاہج حاجی کا جذبہ کیسا زبردست تھا، اپاہج (یعنی چلنے سے معذور)ہونے کے باوجود گِھسٹ گِھسٹ کر کعبہ شریف کی زیارت کے شوق میں چلا جا رہا ہے، 10سال سے مکہ پاک کی طرف رواں دواں تھا،اس کے جذبے اور ہمت پر لاکھوں سلام ۔اِس واقعہ میں ہمارے لیے بھی بڑی عبرت ہے، وہ نادان مسلمان جو * صحت مند اور تندرست ہونے کے باوجود*مال ودولت ہونے کے باوجود *استطاعت کے باوجود سفرِحج کی سعادت حاصل نہیں کرتے۔ اَپاہج حاجی گِھسٹ گِھسٹ کر جا رہا تھا،اسے گھر سے نکلے 10 سال ہوگئے تھے،اب بھی سفر میں تھا اور نادان مسلمان صرف چند گھنٹوں کا سفر کرنے کے لیے بھی ہمت نہیں کرتے۔
کاش! ہمیں شوقِ حج نصیب ہو، کاش...! ہمارے دل میں بھی محبتِ الٰہی اور عشقِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami