Share this link via
Personality Websites!
عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا دامنِ کرم ہاتھ آئے گا تو عشق و محبّت میں لوٹ پَوٹ (یعنی مچل) جاؤں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیّت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اپاہج حاجی کا ایمان افروز واقعہ
حضرت شفیق بلخی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں مکہ مکرمہ حج کے لیے جا رہا تھا، راستے میں ایک شخص دیکھا، اپاہج ہے، چلنے پھرنے سے معذور ہے، گِھسٹ گِھسٹ کر مکہ پاک کی طرف چلا جا رہا ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ یہ کیسا عجیب شخص ہے ،چلنے سے معذور ہے پھر بھی کس شوق اور وارَفتگی کے ساتھ مکہ پاک کی طرف جا رہا ہے۔
میں اُس کے قریب گیا اور پوچھا :بھائی! کہاں سے آئے ہو ؟کہنے لگا: میں سمر قند (Samarkand)سے آ رہا ہوں(سمرقند اَزْبُکِسْتَان کا ایک صوبہ ہے اور موجودہ نقشے کے مطابق سمرقند سے مکہ پاک کا فاصلہ تقریباً4ہزار4سو30کلومیٹر ہے)اتنا طویل سفر اور وہ شخص چلنے سے معذور گِھسٹ گِھسٹ کر جا رہا ہے۔ حضرت شفیق بلخی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مجھے بڑی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami