Share this link via
Personality Websites!
پڑوسی بولا: وہ اَکْثَر روتے رہتے ہیں۔ اُن کے ساتھ میرا سَفَر خوشگوار نہیں ہو سکے گا۔ فرماتے ہیں: میں نے اپنے پڑوسی کو سمجھایا کہ یہ بہت اچھے بزرگ ہیں، نیک ہیں، تقویٰ والے ہیں، اِن کی صُحبت تمہارے لیے بہت فائدے مندہو گی۔ وہ مان گیا۔
خیر! سَفَر شروع ہوا، قافلۂ حجّ سُوئے مکّہ روانہ ہو گیا۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو میں اپنے پڑوسی کے پاس گیا، اُس نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں نے حضرت بُہَیْم رحمۃُ اللہ علیہ جیسا آدمی کبھی نہیں دیکھا، میں مالدار ہوں، وہ غریب ہیں، اِس کے باوُجُود وہ مجھ پر خرچ کرتے تھے، وہ بوڑھے ہونے کے باوُجُود نفل روزے رکھتے، مجھ بےروزہ جوان کے لیے کھانا بناتے اور میری بےحد خِدْمت کیا کرتے تھے۔
حضرت مُخَوَّل رحمۃُ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: آپ حضرت بُہَیْم رحمۃُ اللہ علیہ کے رونے سے بہت پریشان تھے، اب آپ کا کیا ذہن ہے؟ پڑوسی بولا: پہلے پہل میں بلکہ دیگر قافلے والے بھی اُن کے رونے کی کثرت سے گھبرا جاتے تھے مگر آہستہ آہستہ اُن کی صحبت کی برکت سے ہم پر بھی رِقّت طاری ہونے لگی، اُن کے ساتھ مِل کر ہم بھی (خوفِ خُدا و عشقِ مصطفےٰ) میں رویا کرتے تھے۔ ([1])
یادِ نبیِّ پاک میں روئے جو عمر بھر مولیٰ مجھے تلاش اُسی چشمِ تر کی ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت حاتِمِ اَصَمّ رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی: مجھے سَفَرِ حجّ درپیش ہے، کوئی ایسا ہم سَفَر بتائیے، جس کی صحبتِ بابَرَکت کا فیض لوٹتے ہوئے اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر ہو سکوں۔ حضرت حاتِمِ اَصَمّ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: اے بھائی! اگر تم ہم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami