Share this link via
Personality Websites!
خبر تک نہ رہے، ایسا عشق میں بےخُود ہو جائے۔ لہٰذا یہ مدینہ ہے، یہاں اپنی ہستی سے دُور ہو جا! گنبدِ خضراء کے جَلْوَوں میں ایسا محو ہو کہ دُنیا جہان کی خبر ہی کچھ نہ رہے۔
آؤ اِک سجدہ کریں عالَمِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغَرؔ کو خُدا یاد نہیں
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں سَفَرِ حج کا اَدَب سکھایا گیا کہ اس راہ میں تقویٰ ساتھ لے کر جاؤ! اس کا ایک طریقہ جو سمجھ آتا ہے، وہ یہی ہے کہ ہم اَہْلِ تقویٰ کے ساتھ جائیں۔جو خُود نیکیاں کرنے والے ہوں، گُنَاہوں سے بچنے والے ہوں بلکہ کوئی عاشقِ رسول عالِم صاحِب ہوں، اُن کے ساتھ سَفَر کیجیے! اس کی برکت سے عِلْمِ دِین بھی سیکھنے کو ملتا رہے گا، ساتھ ہی ساتھ گُنَاہوں سے بھی بچے رہیں گے۔
حضرت مُخَوَّل رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت بُہَیْم عِجْلی رحمۃُ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا: میرا حجّ کا ارادہ ہے، کسی کو میرا رفیقِ سَفَر (یعنی ساتھی) بنا دیجئے! میرا ایک پڑوسی بھی حجّ پر جانا چاہتا تھا، میں نے اس پڑوسی کو حضرت بُہَیْم رحمۃُ اللہ علیہ کا رفیق بنا دیا۔
حضرت بُہَیْم رحمۃُ اللہ علیہ بہت نیک اور متقی بزرگ تھے، خوفِ خُدا کے سبب بہت روتے تھے، حضرت مُخَوَّل رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے پڑوسی کو جب اُن کے رونے کے بارے میں پتا چلا تو میرے پاس آیا، بولا: میں حضرت بُہَیْم رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ نہیں جا سکتا، مجھے کسی اور کا رَفیق بنا دیجئے! میں نے حیرت سے پوچھا: ہمارے پُورے شہر میں اُن جیسا نیک اور بااَخلاق بندہ نہیں ہو گا...!! پِھر تم اُن کی صحبت سے مَحرومی کیوں چاہتے ہو؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami