Share this link via
Personality Websites!
اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔
یہ سَفَرِ حج کا ایک ادب بتایا جا رہا ہے کہ سَفَرِ حجّ ہو، سَفَرِ عمرہ ہو، اِس کے لیے ہم نے ضروری سامان ساتھ رکھنا ہے، ضروری اَخْراجات کا انتظام کر کے چلنا ہے، یہ عمومًا لوگ کر رہے ہوتے ہیں، بڑے بڑے بیگ (Bag)خریدے جاتے ہیں، ایک ایک چیز بڑی احتیاط کے ساتھ رکھی جاتی ہے، سُوئی، دھاگا، سُرمہ، تولیہ، چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بڑی احتیاط کے ساتھ رکھی جاتی ہیں، درست ہے، یہ رکھنی چاہئیں، سُنّت سے بھی ہمیں اس کی ترغیب ملتی ہےمگر ایک اور چیز بھی ہے جو اس سَفَر کے لیے ساتھ رکھنی ہوتی ہے، وہ کیا ہے؟ فرمایا:
فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناًپرہیزگاری ہے۔
بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ *یہ سَفَرِ عشق ہے، یہ سَفَرِ محبّت ہے *اس سَفَر میں رِقّت چاہیے ، دِل کی نرمی چاہیے *جب کعبہ شریف پر نگاہ پڑے، آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو جائیں *جب طواف کر رہے ہوں، اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا تصَوُّر بندھا ہوا ہو *دِل عاجزی سے جھکا ہوا ہو *آنکھیں بہہ رہی ہوں *قدم قدم پر دِل میں محبّتِ اِلٰہی انگڑائیاں لے رہی ہو، اس سَفَر میں یہ چیزیں ذوق بڑھانے والی ہیں، اس مُبارَک سَفَر کی برکتیں دوبالا کرنے والی ہیں۔ یہ کیسے آئیں گی؟ جب دِل میں تقویٰ ہو گا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ جب ہم جہاز میں بیٹھیں گے تو تقویٰ ہماری جھولی میں ڈال دیا جائے گا، نہیں...!! یہ تقویٰ ہمیں ساتھ لے کر جانا ہے، اپنے گھر میں تقویٰ اختیار کرنا ہے، عام زندگی میں تقویٰ اِختیار کرنا ہے، گُنَاہوں سے بچنا ہے، نیکیاں کرنی ہیں، اِس کی برکت سے دِل میں رِقَّت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami