Share this link via
Personality Websites!
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
ترجمہ:جس نے اللہ پاک کے لیے حج کیا اور اس دوران گندی باتوں اور گُنَاہوں سے بچا رہا، وہ ایسا پاک ہو کر پلٹا گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ اگر گُنَاہوں سے مَحْفُوظ رہ کر، نیکیوں سے بھرپُور سَفَرِ حج ہو تو سب گُنَاہوں کی بخشش مِل جاتی ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ حج کے صدقے اگرچہ کبیرہ گُنَاہ بھی مُعَاف ہو جاتے ہیں، البتہ! ان کی تَلافی پِھر بھی ذِمّے پر باقی رہتی ہے، مثلاً نماز قضا کرنا گُنَاہِ کبیرہ ہے، حج کے صدقے یہ گُنَاہ تَو مُعَاف ہو جائے گا مگر چُھوٹی ہوئی نماز اب بھی پڑھنی پڑے گی۔
یا خدا! حج پہ بُلا آکے میں کعبہ دیکھوں کاش!اِک بار میں پھر میٹھا مدینہ دیکھوں
پھر مُیَسَّر ہو مجھے کاش وُقُوفِ عَرَفات جلوہ میں مُزدلِفہ اور مِنٰی کا دیکھوں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(۱۹۷) (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami