Share this link via
Personality Websites!
پاک پہنچے اور رَوتا کُرلاتا حج کے اَفْعال بجا لاتا ہوا، اپنے گُنَاہوں کی مُعَافِی مانگتا ہوا، اللہ پاک کی رحمت کی اُمِّید لگاتا ہوا ہی واپس پلٹ آئے۔
جُرْم و عصیاں پہ اپنے لجاتا ہوا اَور اشکِ ندامت بہاتا ہوا
تیری رحمت پہ نظریں جماتا ہوا، در پہ حاضِر یہ تیرا گنہگار ہے
حضرت علّامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حج قبول ہونے کی 3شرطیں ہیں، جو قرآنِ کریم میں بیان ہوئیں، ارشاد ہوتا ہے: ([1])
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-
(پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:حجّ چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حجّ کی نیت کرے تو حجّ میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑا ہو ۔
اس آیتِ کریمہ میں 3 باتوں سے منع کیا گیا ہے: (1): رَفَث (یعنی فحش اور گندی باتیں) (2): فُسُوق (یعنی گُنَاہ) اور (3):جِدَال (یعنی لڑائی جھگڑا)۔ یہ تینوں کام عام دِنوں میں، اپنے گھر پر، محلے میں، دوستوں کی محفل میں، غرض ہر جگہ ہی مَنع ہیں مگر حجّ چونکہ ایک اَہَم عِبَادت ہے، مکّہ پاک حَرم شریف ہے، بندہ اِحْرام باندھ کر، لَبَّیْک اَللّٰہُمَّ لَبَّیْک کہہ کر بطور خاص اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِری کا عزم باندھ چکاہے، لہٰذا اِس وقت اِن 3باتوں سے بچنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami