Share this link via
Personality Websites!
اب سامان وغیرہ رکھ کر فارِغ ہو لیں، حرم شریف میں پہنچ کر ہی نمازیں شروع کریں گے۔
اللہ پاک کی پناہ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ میں حقیقت پر مبنی باتیں عرض کر رہا ہوں، یقیناً سب حاجی ایسے نہیں ہوتے، سب عمرہ کرنے والے بھی ایسے نہیں ہوتے، اَلحمدُ للہ! ایک سے ایک نیک، عبادت گزار، تقویٰ و پرہیزگاری کی چلتی پھرتی تَصْوِیرَیں بھی مکہ و مدینہ میں نظر آجائیں گی بلکہ حج کے اِجْتماع میں تو ہزاروں اَوْلیائے کرام بلکہ انبیائے کرام یعنی حضرت خضر اور حضرت اِلْیاس علیہما السَّلام بھی ہر سال حج کرتے ہیں۔ اللہ پاک! ہمیں ان کا فیضان نصیب فرمائے۔
البتہ! جن کا میں عرض کر رہا ہوں، یعنی سفرِ حج میں نمازیں قضا کرنے والے، ان کی بھی ایک تعداد ہوتی ہے *پِھر غیبتیں *غُصّے کا بےجا اِظْہار *بعض نادان تَو اس مقدَّس مبارَک سَفَر میں بھی گالیاں تک نکالنے سے باز نہیں آتے *کبھی جہاز لیٹ (Late) ہونے پر انتظامیہ پر بُڑبُڑائیں گے *کبھی ہوٹل (Hotel)کے کمرے کا انتظام کمزور ہونے پر ہوٹل والوں کو گالیاں نکالیں گے *مَطَاف شریف میں (جہاں طواف کیا جاتا ہے)، عین کعبہ کے سامنے بھی بعض اُلٹ پلٹ حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں *حَجْرِ اَسْوَد کو چُومنے کے لیے وہ دھکم پیل ہوتی ہے، اِس کو لِتَاڑ، اُس کو دھکا، بندوں کے حقوق یُوں تلف ہوتے ہیں کہ بَس اللہ پاک کی پناہ...!!
اے عاشقانِ رسول! یاد رکھیے! حج سَفَرِ عشق ہے، یہاں تَو عشق ہی کا غلبہ ہونا چاہیے ۔ کیا حَسِین مَنْظَر ہو کہ آدمی اللہ پاک کے لُطْف و کرم پر نگاہیں جمائے، اپنے گُنَاہوں اور کوتاہیوں کو دِل بٹھائے روتا بلکتا، شرم و ندامت سے جھجکتا، سَر جھکائے ادب کے ساتھ مکہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami