Share this link via
Personality Websites!
خواہشیں اُٹھتی ہیں کہ مجھے ہار پہنائے جائیں *لوگ آگے بڑھ بڑھ کر مجھے مبارَک باد دیں *میرے ہاتھ چُومیں *مجھ سے دُعائیں کروائیں *دِل کرتا ہے کہ میں سب کو بتاؤں کہ میں حج کر کے یا عمرہ کی سَعادت پا کر واپس آ رہا ہوں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ دِل میں یہ جَذبات اور خواہشیں اُبھرنا گُنَاہ ہے، البتہ! اس طرح دِل للچانا خطرناک ضرور ہے، اس کے سبب آدمی خُود پسندی اور رِیاکاری کے گُنَاہ میں مُبتَلا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے حضرت جنید بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ نے اس حج کر کے آنے والے کا ذِہن بنا دیا کہ بھائی...!! ہم کہاں! اور حقیقی حج کہاں...!! لہٰذا خُود کو حاجی سمجھ کر خُود پسندی میں مُبتَلا ہو نے کی بجائے اپنی کوتاہیوں پر رونا بہتر ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) (پارہ:27، سورۂ نجم:32)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔
پتا چلا؛ اپنے مُنہ اپنی تعریف نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ نیکی کی سعادت مِل گئی تو اب اُس کی قبولیت کی فِکْر میں لگ جانا چاہیے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت جنید بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ نے سُوالات کی صُورت میں اس سَفَر کے باطنی آداب کا کیسا پیارا نقشہ کھینچا ہے...!! *بندہ جب گھر سے نکلے تو گُنَاہوں بھری عادات بھی بالکل تَرْک کر دے *سلے ہوئے کپڑے اُتار کر کفن نُما 2چادریں (یعنی اِحْرام) باندھے تَو ساتھ ہی غُصَّہ، حِرْص، کینہ، بغض، حَسَد وغیرہ باطنی بیماریاں بھی دِل سے نکال کر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami