Share this link via
Personality Websites!
ہے: (۱):ایک (یہ) کہ کسی گُنَاہ کے کام میں خَرْچ کرنا۔مثلاً: شراب نوشی، جوا ،گانے باجوں میں مال خرچ کرنا(۲): بےکار مَحْض مال ضائع کرنا۔مثلاً: بچاہوا کھانا پھینک دینا ،بغیر ضرورت پنکھے ، لائٹیں ، نل وغیرہ چلتی چھوڑ دینا۔ ([1]) (3): مسجد یا مدرسہ کے پانی سے وضو کرتے وقت پانی زیادہ خرچ کرنا حرام ہے ۔([2])
* اِسراف تنگدستی کا سبب ہے کہ جو اللہ پاک کی نعمت کی قدر نہیں کرتا،اس سے وہ نعمت چھین لی جاتی ہے*اِسراف کرنا شیطانی کام ہے* اِسراف کرنے والے کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔([3]) *اِسراف کرنے والا اللہ پاک کو پسند نہیں* قیامت کے دن اِسراف کا حساب دینا پڑے گا ۔
* اِسراف کے اَنْجام پر غَور کیجئے کہ نِعْمَت کی بےقدری کرنے کی وجہ سے اگر وہ نِعْمَت ہم سے چھین لی گئی تو کیسی مُشْکِل پیش آئے گی * عِلْمِ دِین حاصِل کیجیئے تا کہ جہالت کے سبب ہونے والے اِسراف سے مَحْفُوظ رہیں*نعمتوں کی قدر دل میں بڑھائیے اوراحساس پیدا کیجئے! بعض اوقات غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اِسراف کے گناہ میں مبتلا ہو رہے ہوتے ہیں * عاجزی اِخْتِیَار کیجئے * مَوت کو کثرت سے یاد کیجئے!اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دل سے دنیاکی مَحبَّت دُور ہو گی ،گُنَاہوں سےبچنے اور نیکیاں کرنے کا ذِہْن بنے گا۔
سیکھنے سکھانے کے حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ؕ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami