Share this link via
Personality Websites!
وضاحت: کسی بھی چیز کو بلا ضرورت وبے فائدہ خرچ کرنا اِسراف کہلاتا ہے۔مثلاً فضول خرچی کرنا جیسے * لائٹیں * پنکھے * اے سی وغیرہ چلتے چھوڑ دینا * جہاں ایک لائٹ سے کام چل سکتا ہو وہاں 2یا زیادہ لائٹیں جلانا * ضرورت سے زیادہ پانی گِرانا * قابل ِاستعمال اشیاء مثلاً :ہڈی کے ساتھ بوٹی لگی ہو،بغیر صاف کیے پھینک دینا،روٹی کے کنارے پھینک دینا وغیرہ سب اِسراف کی صورتیں ہیں۔
وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پارہ:8،الانعام :141)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان:اور فضول خرچی نہ کرو بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
فرامینِ آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
* جو میانہ روی اختیار کرتا ہے ،اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے ، جو فضول خرچی کرتا ہے ،اللہ پاک اسے فقیر کر دیتا ہے ۔([1])*بیشک اللہ پاک 3کاموں کو پسند نہیں فرماتا : *..فضول باتیں*..مال ضائع کرنا اور *..بہت زیادہ سوال کرنا۔ یعنی بلاضرورت لوگوں سے مانگنا یا ہر شرعی حکم کی وجہ پوچھنا اور عمل نہ کرنا۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کے دن ہر نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ایک محتاج شخص نے نبی کریم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! کیا مجھ پر بھی کوئی نعمت ہے (جس کے متعلق مجھ سے پوچھا جائے گا )؟فرمایا: ہاں،سایہ ،جوتے اور ٹھنڈا پانی تمہیں بھی میسر ہے، روزِ قیامت ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ([3])
اِسراف کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
(1): اسراف (یعنی فضول خرچی )مذموم (بری ) ہے۔([4]) (1): 2صورتوں میں اِسراف ناجائز وگُنَاہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami