Share this link via
Personality Websites!
جائے جو نیک ہوں۔*اُن کی صحبت اختیار کی جائے جو پرہیزگار ہوں۔*اُن کے ساتھ تعلق رکھنا چاہیے جو سچ بولنے والے ہوں۔*اُن کے ساتھ رہا جائے جو جھوٹ سے بچنے والے ہوں۔ *اُن کو دوست بنانا چاہیے جو شریعت پر عمل کرنے والے ہوں۔*اُن کو دوست بنانا چاہیے جو نماز روزے کے پابند ہوں۔*اُن کے ساتھ رہنا چاہیے جو اللہ پاک سے ڈرنے والے ہوں۔*اُن کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو عشقِ رسول کے پیکر ہوں۔*اُن کے ساتھ رہنا چاہیے جوصحابہ و اہلِ بیت عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن سے مَحَبَّت کرتے ہوں۔*اُن کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو فکرِ آخرت سے بے قرار ہوں۔*اُن کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو موت،قبر، میدانِ محشر اور خوفِ دوزخ سے روتے ہوں۔*اُن کےساتھ رہنا چاہیے جو سنت و شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہوں۔
یاد رکھئے!دوست ہی آدمی کے مزاج اور عادات کی پہچان ہوتا ہے۔اس لیےدوست اسی کوبنانا چاہیے جو شریعت و سنت کے مطابق چلتا ہو۔
حضرت امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:پانچ(5) قسم کے آدمیوں کی صحبت اختیار نہ کرو!
1۔ بہت جھوٹ بولنے والا شخص:کیونکہ تم اس سے دھوکہ (Cheating)کھاؤ گے،وہ صحرا میں پانی کی طرح نظر آنے والی ریتجیساہے۔ وہ دُور والے کو تیرے قریب کر دے گا اور قریب والے کو دُور کر دے گا۔
2۔ بے وقوف آدمی: کیونکہ اس سے تمہیں کچھ بھی حاصل نہ ہو گا، وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا لیکن نقصان پہنچا بیٹھے گا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami