Share this link via
Personality Websites!
کرتا رہتا ہے،جھوٹ سے بچتا رہتا ہے اور سچ کے پودے کو پروان چڑھاتا رہتا ہے،اس حفاظت کے سبب اللّٰہ پاک سچائی کو مضبوطی عطا فرماتا ہے، سچ بولنے والے پر اپنی برکات اُتارتا ہے۔ پھر سچ بولنے اور سچائی کی حفاظت کرنے کی وجہ سے بندہ اُس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کا کلام خطا کاروں اور گناہوں کے بیماروں کے لئے دوا کا کام دینے لگتا ہے۔یہ بات بیان کر لینے کے بعد حضرت مالک بن دِینا ر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پوچھا: کیا تم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اس مرتبے پر فائز ہوئے؟ پھر خود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ہا ں! کیوں نہیں!،خدا کی قسم! ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے اور وہ حضرت حسن بَصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہیں، وہ حضرت سعید بن جُبَیْر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہیں اور ان جیسے دیگر خوش بخت افراد ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کے کلام سے اللّٰہ پاک ہزاروں لوگوں کو زندگی بخشتا ہے یعنی ان کے کلام سُن کر اللہ پاک کی رحمت سے ہزاروں افراد بُرائی کا راستہ چھوڑ کرنیکی کے راستے کے مسافر بن جاتے ہیں۔(اللہ والوں کی باتیں، ۲/۵۴۸ملخصاً)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اےعاشقانِ رسول!معلوم ہوا! سچ کی بڑی برکتیں ہیں۔سچ ایک ایسی خوبی ہے جو نہ صرف اس دنیا میں بندے کو کامیابی دِلواتی ہے بلکہ آخرت میں بھی سچ بولنے والے کامیاب ہوں گے۔قرآنِ پاک میں بالکل واضح طور پر اسی بات کو بیان کیا گیا،چنانچہ
پارہ 7 سورۂ مائدہکی آیت نمبر119 میں ارشاد ہوتا ہے:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami