Share this link via
Personality Websites!
زبان کے اچھے اور صحیح استعمال کی ایک صورت سچ بولنا جبکہ اسی زبان کے غلط استعمال کی ایک صورت جھوٹ بولنا بھی ہے۔ سچ کی بےشمار برکتیں ہیں، ہمیشہ سچ بولنے والا انسان دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ جھوٹ کی کئی خرابیاں ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جھوٹا انسان دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوتا رہتا ہے، لوگ بھی اُس پر اعتماد نہیں کرتےاور اسےنفرت کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔
یاد رہے!حقیقت کے مطابق بات اور کام کا ہونا سچ ہے جبکہ واقعہ کے اُلٹ بات اور کام کرنا جھوٹ ہے۔سچ بولنے کی عادت بنانے کےلیے ضروری ہے کہ ہمیشہ جھوٹ سے بچا جائے۔ بظاہر بندہ یہ سمجھتا ہے کہ ایک بار کے جھوٹ بولنےسے کچھ نہیں ہوگا مگر یہی ایک بار کا جھوٹ بولنا سچ کی تمام بنیادوں کو ہِلاکر رکھ دیتا ہے۔
ہمیشہ سچ بولنے والے کے کلام کی برکتیں
پیارے اسلامی بھائیو!اگر بندہ ہمیشہ سچ بولتا رہے،کبھی بھی جھوٹ کے دھبوں سے دامن گندہ نہ کرے تو سچ کی بڑی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں،چنانچہ
حضرت مالِک بن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جس طرح کھجور کے پودے کاآغاز ایک ٹہنی سے ہوتا ہے، اس وقت وہ ٹہنی اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر بچہ اسے اُکھیڑے یا بکری کھا لے تو اس کی جڑ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر اس ٹہنی کو مسلسل پانی دیا جاتا ہے جس سے وہ پرورش پاتی رہتی ہے حتّٰی کہ اس کی ایک مضبوط جڑ تیار ہوجاتی ہے، پھر وہی ٹہنی جو پہلے بہت کمزور تھی اب سایہ بھی دیتی ہے،پھل بھی دیتی ہے۔ اسی طرح سچائی بھی آغاز میں دل کے اندر کمزور ہوتی ہے۔بندہ اس کی حفاظت و دیکھ بھال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami