Share this link via
Personality Websites!
پىارے اسلامى بھائىو! اس میں شک نہیں کہ اللہ پاک نے اِنسان کوبے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ، اِن میں سے ایک عظيم نعمت’’زَبان‘‘ بھی ہے ،زَبان بظاہر گو شت کی ایک چھوٹی سی بوٹی ہے، مگر خدائے رحمٰن کی عظیمُ الشَّان نعمت بھی ہے۔ زَبان کا صحیح اِستِعمال جنت اور غَلَط استِعمال دوزخ میں داخل کرواسکتاہے۔ اگر کوئی اپنی زبان کا دُرست اِستعمال کرتے ہوئے سچے دل سے کلمۂ طیبہ پڑھ لے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ،جیسا کہ
پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ وَجَبَتْ لَہ الْجَنَّۃُ جس نے لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کے لئے جنت واجب ہوجائے گی۔
(مستدرک،کتاب التوبة والانابة،باب من قال لا الٰہ..الخ،۵/۳۵۶،حدیث:۷۷۱۳)
اگر یہی زبان مَعَاذَاللہ(اللہ پاک کی پناہ)،اللہ پاک کی نافرمانی میں چلے تو بہت بڑی آفت کا سبب بن سکتی ہے،جیسا کہ
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اِنسان کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے ہوتی ہیں۔
(شعب الایمان،باب فی حفظ اللسان،۴ /۲۴۰، حدیث:۴۹۳۳ )
لہٰذا عقل مند وہی ہے جو زبان کا اچھا استعمال کرےاور اسے بُرے استعمال سے بچائے،اپنی زبان کو فضول گفتگو سے بچائے،کسی کو گالی دینے سے بچائے،کسی کا دِل دکھانےسے بچائے۔
یاد رہے!زبان کا اچھا استعمال کئی فوائد کا حق دار بنا دیتا ہے، جبکہ زبان کا بُرا استعمال کئی فوائد سے محروم اور کئی نقصانات کروادیتا ہے۔لہٰذا زبان کے اچھے استعمال کی عادت بنانی چاہیے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami