Share this link via
Personality Websites!
لوں۔حضرت عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اُس کی پرہیزگاری کا امتحان لینے کے ارادے سے فرمایا : کیا تم اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچو گے؟اس کی قیمت اور گوشت بھی تمہیں دیں گے تاکہ تم اس سے روزہ اِفطار کرسکو، اُس نے جواب دیا:یہ بکریاں میری نہیں ہیں، میرے مالک کی ہیں۔حضرت عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے آزمانے کے لیے فرمایا: مالک سے کہہ دینا کہ بھیڑیا (Wolf)ان میں سے ایک کو لے گیا ہے،غلام نے کہا:تو پھر اللہ پاک کہاں ہے؟(یعنی اللہ پاک تو دیکھ رہا ہے، وہ تو حقیقت کو جانتا ہے اور اس پر میری پکڑ فرمائے گا۔)جب حضرت عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ مدینے واپس تشریف لائے تو اُس کے مالِک سے غلام اورساری بکریاں خرید لیں،پھر چرواہے کو آزاد کردیا اور بکریاں بھی اسے تحفے میں دے دیں۔(شُعَبُ الْاِیمان،۴/۳۲۹،حدیث:۵۲۹۱مُلَخَّصاً،ازجھوٹاچور،ص۱۶بتغیر)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حکایت سے معلوم ہوا!*اللہ والے وُہی ہوتے ہیں جو ہمیشہ سچ بولتےاور خوفِ خدا میں ڈوبے رہتے ہیں۔* شریعت کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔*دِین کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
اے کاش! ہم بھی اللہ والوں کے نقشِ قدم پر چلنے والے بن جائیں۔ دنیا کے لیے نہیں بلکہ اپنے ربِّ کریم کی رِضا کے لیے کام کرنے والے بن جائیں اورمخلوق کی بجائے شریعت کی فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاٰمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami