Share this link via
Personality Websites!
(احیاء العلوم، ۵/۱۱۶)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے اسلامى بھائىو! معلوم ہوا!سچ ایک ایسا عمل ہے جو بندے کو اللہ پاک کی رحمت کا حق دار بناتا ہے، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا !جھوٹ ایک ایسا عمل ہے جو بندے کو رِضائے الٰہی اورقُربِ الٰہی سے بہت دُور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جھوٹ کی کئی تباہ کاریاں ہیں۔ آئیے! احادیثِ طیبہ میں بیان کردہ جھوٹ کی کچھ بُرائیاں سنتے ہیں:
*…جب بندہ جُھوٹ بولتا ہے تو اس کی بَدبُو سے فِرِشتہ ایک مِیْل دُور ہوجاتا ہے۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء في الصدق والکذب،حدیث:۱۹۷۹،۳/۳۹۲)*…جُھوٹ بولنا سب سے بڑا دھوکہ ہے ۔(ابوداود،کتاب الادب،باب في المعاریض،حدیث:۴۹۷۱،۴/۳۸۱)*…جُھوٹ ایمان کے مُخالِف ہے۔ (مسند احمد،مسند ابي بکر الصدیق،۱/۲۲،حدیث:۱۶)*… لوگوں کوہنسانے کےلیے جھوٹ بولنے والے کیلئے ہَلاکت ہے۔(ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،حدیث:۲۳۲۲،۴/۱۴۲)*…لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنے والا دوزخ کی اِتنی گہرائی میں گِرتا ہے جوآسمان و زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔(شعب الایمان، باب في حفظ اللسان،حدیث:۴۸۳۲، ۴/۲۱۳)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
آج کل بدقسمتی سے جھوٹ کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے ۔ سچ کی عادت بنانے اور جھوٹ سے بچنے کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami