Share this link via
Personality Websites!
کوئی جھاڑ دے تب بھی نرمی بَرَتنا کئے جانا صَبْر اَجر اِس میں بڑا ہے([1])
مزید اِرْشاد ہوا:
وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور نہ کسی سے جھگڑاہو۔
یہ بھی سَفَرِ حج کا بہت اَہَم اَدَب ہے۔ سَفَرِ حج یا عمرہ میں اس کے اِمْکانات بہت بڑھ جاتے ہیں *ایک تَو سَفَر کی تکلفیں، ظاہِر ہے گھر سے دُور گھر جیسا ماحَوْل تَو کہیں بھی میسر نہیں آئے گا *پِھر عرب شریف کی سخت گرمی *پِھر آپ سمجھ سکتے ہیں لاکھوں لاکھ لوگ حج کے لیے جاتے ہیں *وہاں کی جو انتظامیہ ہے *ہوٹلوں والے *ٹرانسپورٹ والے، وہ سب بھی کام کر کے تھکے ہوتے ہیں، اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کرنے میں 19، 20 کی کمی رہ ہی جاتی ہے، کبھی ہوٹل کا مسئلہ *کبھی کمرہ ٹھیک نہ ملا *کبھی گاڑی والے نے لیٹ کر دیا *جنہوں نے قربانی کا ٹوکن لیا ہوتا ہے، ان کی قربانیاں لیٹ ہو جاتی ہیں *کہیں دھکا لگ گیا *کبھی کوئی چیز گم ہو گئی *بیمار پڑ گئے تو دوا کا انتظام درست نہ ہو پایا *اس کے ساتھ ساتھ اُن کی زبان عربی، ہم اُردُو، پنجابی، سندھی اور پشتو وغیرہ بولیں گے تو انہیں سمجھ نہیں آئے گی، لہٰذا ان کی سمجھنا اور اپنی سمجھانا بھی ایک مسئلہ ہے۔ یُوں ہزار طرح کے معاملات ہو سکتے ہیں بلکہ ہوتے بھی ہیں۔ ایسے حالات میں غُصّہ بھی آتا ہے، دانت بھی بھنچتے ہیں، دِل کرتا ہے کہ سامنے والے کو تھپڑ لگا دئیے جائیں... مگر! یہ سَفَرِ حج ہے۔ یہی تَو امتحان ہے۔ روکیے! خُود کو روکیے! غُصّہ پی جائیے! یہاں کسی سے اُلجھنا نہیں ہے، جھگڑنا نہیں ہے، ہر ایک کو ادب سے شکریہ شکریہ ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami