Share this link via
Personality Websites!
*گندی باتیں بھی ہو رہی ہوتی ہیں *بالخصوص جب راستے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، مثلاً؛ جہاز لیٹ ہو گیا، جدّہ ائیر پورٹ سے جس گاڑی نے پِک(Pick) کرنا تھا، وہ بروقت نہ پہنچی، ہوٹل میں کمرہ بروقت خالی نہ مِلا *کمرے کی صفائی ستھرائی کا نِظام اچھا نہ مِل سکا تو بعض صبر نہیں کرتے، مُنہ ہی مُنہ میں بَڑبَڑاتے، ہوٹل انتظامیہ کو گالیاں نکالتے اور نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں ، بعض دفعہ ان مقدَّس مقامات پر ہاتھا پائی تک بھی نَوبَت پہنچ جاتی ہے۔
اے عاشقانِ رسول! سَفَرِ حج سَفَرِ عشق ہے، یہ وہ مقام ہے، جہاں دِل صاف ہونے ہیں، دِلوں کے زنگ اُترنے ہیں، اگر یہاں بھی ایسی بیوقوفانہ حرکتیں رہیں گی تو بتائیے! رحمتیں کیونکر برسیں گی...؟ اس لیے سَفَر حج و عمرہ میں بالخصوص اور اس کے عِلاوہ بھی زبان پر قفلِ مدینہ لگائے رکھنا چاہیے یعنی بَس ضرورت کی بات وہ بھی نپے تُلے لفظوں میں کر لینے کی عادَت بنائیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! برکتیں نصیب ہوں گی۔
حدیثِ پاک میں ہے: جس نے خاموشی کے ساتھ، ذِکْرُ اللہ کرتے ہوئے، شدید کی گرمی میں ،طواف اس طرح کیا کہ نہ کلام کیا، نہ کسی کو تکلیف دی اور ہر پھیرے پر استِلام کیا (یعنی حجر اَسْود کو بوسہ دے کر یا ہاتھ سے چھو کر یا اِشارہ کرکے انہیں چوم لیا) تو ہر قدم پر 70ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، 70ہزار گناہ مٹا دیے جائیں گے اور 70ہزار درجے بُلند ہوں گے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ صِرْف طواف خاموشی سے کرنے کی فضیلت ہے، اگر پُورا سَفَرِ حج ہی زبان کی حفاظت کے ساتھ گزرے تو سوچئے! کتنی برکتیں نصیب ہوں گی؟ اللہ پاک ہمیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami