Share this link via
Personality Websites!
حجّ کے دوران یہ 3کام منع ہیں: (1): رَفَثْ: اس کا معنیٰ ہے: فُحش باتیں کرنا۔ خاص طَور پر خواتین کے بارے میں جو باتیں ہوتی ہیں، میاں بیوی کے آپسی تعلق کے بارے میں جو باتیں ہوتی ہیں، اِن باتوں کو رَفَثْ کہا جاتا ہے۔([1]) (2): فُسُوق:اِس کا معنیٰ ہے: گُنَاہ اور بُرائی کے کام (3): جِدَال: اِس کا معنیٰ ہے: لڑائی جھگڑا کرنا۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ 3 کام ہیں جن سے بچنا ہے:
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
اَلْحَيَاءُ مِنَ الاِيْمَانِ، وَالاِيْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِيْ النَّارِ
ترجمہ: حیا اِیْمان سے ہے اور اِیْمان جنّت میں ہے، فحش گوئی (یعنی گندی باتیں کرنا) بداَخْلاقی سے ہے اور بداَخْلاقی جہنّم میں ہے۔ ([3])
اَفسوس! حاجی سَفَرِ حج پر روانہ تَو ہو جاتے ہیں مگر اُن کی باتیں ختم نہیں ہوتیں، یہاں سے روانگی کے وقت بہت جذبہ ہوتا ہے، شوق ہوتا ہے کہ واہ! میں حج یا عمرہ کے لیے جا رہا ہوں، مگر سَفَر کی تکلفیں بَورِیّت، پِھر زیادہ عِبَادت کی پریکٹس(Practice) نہ ہونے کے سبب جذبہ جلدی ماند پڑ جاتا ہے، عموماً جو دوست احباب مِل کر سَفَر کرتے ہیں، وہ جلد ہی سَفَر سے اُکْتا کر خوش گپیاں شروع کر دیتے ہیں، پِھر ان خوش گپیوں میں *سیاسی تبصرے بھی ہوتے ہیں *غیبتیں اور چغلیاں بھی ہوتی ہیں *مُنہ سے گالیاں بھی نکل رہی ہوتی ہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami