Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک نے فرمایا:
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: حج چند مَعْلُوم مہینے ہیں۔
یعنی جس طرح عمرہ ہے، جب بھی چاہیں،جا کر عمرہ کر سکتے ہیں، حج ایسے نہیں ہے، حج کے لیے وقت اور مہینے مقرَّر ہیں،ویسے حج کے جو دِن ہیں، وہ صِرْف 5ہیں، یعنی حج کے مناسک 8 ذُو الْحَجْ سے شروع ہوتے ہیں اور 13 کو مکمل ہو جاتے ہیں، البتہ! شَوَّال، ذِیقعدہ، ذُو الْحَجْ ان تینوں مہینوں کو حج کے مہینے کہتے ہیں کیونکہ ان 3مہینوں میں حج کا اِحْرام باندھا جا سکتا ہے۔
اسے یُوں سمجھ لیجیے! اگر کوئی شخص رمضان کریم ہی میں حج کا اِحْرام باندھ کر مکہ پہنچ جائے تو یہ اس کے لیے جائِز نہیں ہے مکروہ ہے۔ اگر کوئی شَوَّال میں حج کا اِحْرام باندھ لے تو یہ بالکل جائِز ہے۔([1]) یُوں شَوَّال سے لے کر ذُو الْحَجْ تک یہ 3مہینے بلکہ 3بھی پُورے نہیں ہیں، 2 مہینے 10 دِن جو ہیں، یہ حج کے مہینے ہیں۔([2])
(1):گُنَاہ اور بےحیائی سے بچیے!
مزید فرمایا:
فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami