Share this link via
Personality Websites!
جہاں رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے مقدّس مبارَک قدم لگے، جن جگہوں کو انبیائے کرام علیہمُ السَّلام نے شرف بخشا، اللہ پاک کے ولیوں نے جن مقامات پر وقت گزارا، حاجِی اُن مقامات پر پہنچتے، ان گلیوں کو دیکھتے، ان مقامات کا فیضان لوٹتے ہیں *8 ذُو الْحَجْ کو اِحْرام باندھے ہوئے مِنیٰ پہنچتے ہیں، یہاں رات گزارنا سُنّت ہے، حاجی یہ سُنّت ادا کرتے ہیں۔ *9 ذُو الْحَجْ یعنی عرفہ کے دِن میدانِ عرفات میں پہنچتے ہیں، 9 تاریخ کی مغرب کے بعد تک یہاں قیام ہوتا ہے۔ خُوب دُعائیں مانگی جاتی ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے:
اِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ اِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ اِلَى السَّمَاءِ فَيُبَاهِيْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ
ترجمہ:جب عرفہ کا دِن آتا ہے تو اللہ پاک آسمانِ دُنیا پر نُزُول فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے میدانِ عرفات میں جمع ہونے والوں پر فخر فرماتا ہے۔
فَيَقُولُ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عِبَادِيْ اَتَوْنِيْ شُعْثًا غُبْرًا، ضَاحِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ، اُشْهِدُكُمْ اَنِّيْ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ
ترجمہ: اللہ پاک فرماتا ہے: اے فرشتو! دیکھو میرے بندوں کو...!! دُور دُور سے (تکلیفیں اُٹھا کر) بکھرے بالوں کے ساتھ غُبار آلود حاضِر ہوئے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔([1])
ایک حدثِ پاک میں فرمایا:
فَمَا مِنْ يَّوْمٍ أَكْثَرُ عَتِيْقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَّوْمِ عَرَفَةَ
ترجمہ: کسی بھی دِن اتنے لوگوں کو جہنّم سے آزاد نہیں کیا جاتا، جتنوں کو عرفہ کے دِن
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami