Share this link via
Personality Websites!
کر جاؤ! اس کا ایک طریقہ جو سمجھ آتا ہے، وہ یہی ہے کہ ہم اَہْلِ تقویٰ کے ساتھ جائیں۔جو خُود نیکیاں کرنے والے ہوں، گُنَاہوں سے بچنے والے ہوں بلکہ کوئی عاشقِ رسول عالِم صاحِب ہوں، اُن کے ساتھ سَفَر کیجیے! اس کی برکت سے عِلْمِ دِین بھی سیکھنے کو ملتا رہے گا، ساتھ ہی ساتھ گُنَاہوں سے بھی بچے رہیں گے۔
اگر کوئی ایسا نیک ساتھی نہ مِل سکے تو کیا کرنا ہے...؟ سنیے! ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت حاتِمِ اَصَمّ رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی: مجھے سَفَرِ حجّ درپیش ہے، کوئی ایسا ہم سَفَر بتائیے، جس کی صحبتِ بابَرَکت کا فیض لوٹتے ہوئے اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر ہو سکوں۔ حضرت حاتِمِ اَصَمّ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: اے بھائی! اگر تم ہم نشین چاہتے ہو تو تِلاوتِ قرآن کی ہم نشینی (یعنی صحبت) اختیار کر لو...!! ([1])
یہ بہترینِ ہم سَفَر ہے۔ کثرت سے تِلاوت کریں، دِل میں تقویٰ آئے گا *گُنَاہوں سے بچیں، دِل نرم ہو گا *نیکیوں پر نیکیاں کریں، دِل پاک صاف ہو گا *کثرت سے توبہ کریں، اِسْتِغْفَار کی کَثْرت کریں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دِل پاک صاف ہو گا تو سَفَرِ حجّ کا لطف دوبالاہو جائے گا۔
نیک اعمال کا رسالہ ساتھ لے لیجیے!
آخر میں ایک مشورہ عرض کرتا ہوں: شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے سَفَرِ حج و عمرہ نیکیوں سے بھرپُور گزارنے کے لیے نیک اعمال کا تحفہ عطا فرمایا ہے: 19نیک اعمال۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami